آج کی تیز رفتار زندگی میں سفر کے دوران اسمارٹ فون کا استعمال بہت بڑھ چکا ہے، اور اکثر لوگ گاڑی میں ڈرائیونگ کے دوران اپنا موبائل چارجنگ پر لگا دیتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک نہایت آسان اور مفید حل نظر آتا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ گاڑی میں فون چارج کرنا آپ کے آلے کے لیے کتنا خطرناک ہو سکتا ہے؟ گاڑی کی USB پورٹس بنیادی طور پر فون کو تیزی سے چارج کرنے کے لیے نہیں بلکہ میڈیا پلیئر سے کنیکٹ کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ گاڑی میں فون چارج کرنے کے نتیجے میں نالی کی غیر متوازن بجلی اور تیز حرارت آپ کے گرائم قدر موبائل کی بیٹری کو سست رفتاری سے ناکارہ بنا سکتی ہے۔
زیادہ تر گاڑیوں میں موجود بلٹ ان USB پورٹس صرف 0.5 ایمپیئر کا کرنٹ فراہم کرتی ہیں۔ یہ وولٹیج جدید اسمارٹ فونز کے لیے انتہائی کم ہے۔ جب آپ جی پی ایس نیویگیشن یا میوزک چلاتے ہوئے گاڑی میں فون چارج کرتے ہیں، تو فون اتنی بجلی خرچ کر رہا ہوتا ہے جتنی اسے مل نہیں رہی ہوتی۔ اس سے نہ صرف چارجنگ کی رفتار انتہائی سست ہو جاتی ہے بلکہ فون پر زیادہ زور پڑتا ہے۔
گاڑی کی کم پاور والی USB پورٹ پر فون چارج کرنے سے بیٹری چارج ہونے کے بجائے مزید گرم ہو کر ڈسچارج ہو سکتی ہے۔
گاڑی کے انجن اور الیکٹریکل سسٹم میں وولٹیج کی تبدیلی ایک عام بات ہے۔ جب آپ گاڑی سٹارٹ کرتے ہیں یا ریس دیتے ہیں، تو کرنٹ کا بہاؤ یکساں نہیں رہتا۔ یہ غیر متوازن کرنٹ اسمارٹ فون کے حساس مدر بورڈ اور بیٹری کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سفر کے دوران گرمی اور ڈائریکٹ دھوپ کی وجہ سے چارجنگ کے وقت فون انتہائی گرم ہو جاتا ہے، جو لیتھیم آئن بیٹری کی عمر کا سب سے بڑا دشمن ہے۔
اگر آپ کو دورانِ سفر فون چارج کرنا ہی پڑے تو گاڑی کی بلٹ ان USB پورٹ کے بجائے 12V کی سگریٹ لائٹر ساکٹ میں اعلیٰ معیار کا برانڈڈ کار چارجر (Car Adapter) استعمال کریں۔ یہ اڈاپٹرز وولٹیج کو کنٹرول کرتے ہیں اور آپ کے فون کو فاسٹ چارجنگ کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور بہترین حل اچھے پاور بینک کا استعمال ہے، جو فون کو مکمل تحفظ کے ساتھ چارج کرتا ہے۔
کیا آپ بھی روزانہ گاڑی میں فون چارج کرنے کی غلطی کرتے ہیں؟ نیچے کمنٹس میں اپنے تجربات اور رائے کا اظہار ضرور کریں!









